قرآن - 2:88 سورہ البقرہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

88
وَقَالُواْ قُلُوبُنَا غُلۡفُۢۚ بَل لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَقَلِيلٗا مَّا يُؤۡمِنُونَ

Transliteration: (Wa qaaloo quloobunaa ghulf; bal la'anahumul laahu bikufrihim faqaleelam maa yu'minoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌؕ-بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ(88) || اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یہودیوں نے کہا: ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے تو ان میں سے تھوڑے لوگ ہی ایمان لاتے ہیں ۔ || اور یہودیوں نے کہا: ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے تو ان میں سے تھوڑے لوگ ہی ایمان لاتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 88 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ: ہمارے دلوں پر پردے ہیں۔} یہودیوں نے مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی مراد یہ تھی کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ہدایت ان کے دلوں تک نہیں پہنچتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ یہ جھوٹے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے دلوں کوفطرت پر پیدا فرمایااور ان میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ یہودیوں کا ایمان نہ لانا ان کے کفر کی شامت ہے کہ انہوں نے سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پہچان لینے کے بعد انکار کیا تواللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی ،اس کا یہ اثر ہے کہ وہ قبولِ حق کی نعمت سے محروم ہوگئے۔(جلالین مع جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۸، ۱ / ۱۱۴-۱۱۵)

            آج بھی ایسے لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پرعظمت ِ رسالت سمجھنے سے پردے پڑے ہوئے ہیں۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now