Transliteration: (Wa latajidannahum ahrasannaasi 'alaa hayaatinw wa minal lazeena ashrakoo; yawaddu ahaduhum law yu'ammaru alfa sanatinw wa maa huwa bi muzahzihihee minal 'azaabi ai yu'ammar; wallaahu baseerum bimaa ya'maloon)
{اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ: لوگوں میں سب سے زیادہ جینے کی ہوس۔} مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں سلام کے موقع پر کہتے ہیں ’’زِہ ہزار سال ‘‘ یعنی ہزار برس جیو ۔ان کے اس قول کے پیشِ نظر آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں اوریہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں جینے کی ہوس سب سے زیادہ ہے حالانکہ اتنی عمر کا دیا جانابھی اسے جہنم کے عذاب سے دور نہ کرسکے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کا کوئی حال اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱ / ۷۱)
یاد رہے کہ کفار دنیاوی زندگی پر حریص ہوتے ہیں اور موت سے بہت بھاگتے ہیں جبکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اگر زندگی چاہتا ہے تو صرف اس لئے کہ زیادہ نیکیاں کرے، آخرت کا توشہ جمع کرے اور آخرت کا زادِ راہ جمع کرنے کے لئے زندگی چاہنا اچھا ہے کہ یہ زندگی کی ہوس نہیں بلکہ آخرت کی تیاری ہے۔نیز لمبی عمر اور زیادہ مال اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت نہیں بلکہ یہ تو بعض اوقات وبال کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔حضرت ابوبکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ ارشاد فرمایا’’جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو۔ اس شخص نے پھر عرض کی:لوگوں میں سب سے برا کون ہے؟ ارشاد فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو۔ (ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ، باب منہ، ۴ / ۱۴۸، الحدیث: ۲۳۳۷)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 96 تفسیر