Transliteration: (Wa laqad anzalnaaa ilaika Aayaatim baiyinaatinw wa maa yakfuru bihaaa illal faasiqoon)
{وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ:اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کیں۔} ابن صوریا نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا کہ آپ کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آئے جسے ہم پہچانتے ہوں اور آپ پر ایسی کوئی روشن آیت نازل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہم آپ کی پیروی کریں۔اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں نازل فرمائی ہیں جن میں حلال،حرام اور حدود وغیرہ کے احکام واضح اور تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں اور ان آیتوں کا انکار وہی کرتا ہے جو ہمارے احکامات کی اطاعت نہیں کرتا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۹، ۱ / ۷۲)
یاد رہے کہ یہاں فاسقوں سے مراد کافر اور منافق ہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 99 تفسیر