قرآن - 48:7 سورہ الفتح ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

7
وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

Transliteration: (Wa lillaahi junoodus samaawaati wal ard; wa kaanal laahu 'azeezan hakeema)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(7) || اور اللہ ہی کی مِلک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اور اللہ عزت و حکمت والا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکراللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور اللہ عزت والا، حکمت والا ہے۔ || اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکراللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور اللہ عزت والا، حکمت والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفتح آیت 7 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور آسمانوں  اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کی مِلکیَّت میں  ہیں ۔} بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جب صلحِ حدیبیہ ہوگئی تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ گمان کرتے ہیں  کہ جب انہوں  نے اہلِ مکہ سے صلح کر لی یا مکہ کوفتح کرلیا توان کاکوئی دشمن باقی نہیں  رہے گا(اگر ایسی بات ہے )تو فارس اورروم کدھرجائیں  گے ؟تب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت ِمبارکہ نازل فرمائی کہ آسمانوں  اور زمین کے تمام لشکروں  کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ فارس و رُوم کے لشکروں  سے بہت زیادہ ہیں  اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ ان میں  سے جس لشکر کے ذریعے چاہے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ایمان والوں  کے دشمن (اور اس)کی سازش کودور فرما دے اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ غالب ہے تو اس کے عذاب کو کوئی دور نہیں  کر سکتا اور وہ اپنی تدبیر میں  حکمت والا ہے۔(قرطبی، الفتح، تحت الآیۃ: ۷، ۸ / ۱۹۱، الجزء السادس عشر، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۱۴۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now