قرآن - 25:40 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

40
وَلَقَدۡ أَتَوۡاْ عَلَى ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِيٓ أُمۡطِرَتۡ مَطَرَ ٱلسَّوۡءِۚ أَفَلَمۡ يَكُونُواْ يَرَوۡنَهَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَرۡجُونَ نُشُورٗا

Transliteration: (Wa laqad ataw 'alal qaryatil lateee umtirat mataras saw'; afalam yakoonoo yarawnahaa; bal kaanoo laa yarjoona nushooraa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِؕ-اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَاۚ-بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا(40) || اور ضرور یہ ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے بلکہ انہیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اوربیشک یہ اس بستی پر ہو آئے ہیں جس پر بری بارش کی گئی تو کیا یہ اس بستی کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ یہ مرنے کے بعد اٹھنے کی امید نہیں رکھتے۔ || اوربیشک یہ اس بستی پر ہو آئے ہیں جس پر بری بارش کی گئی تو کیا یہ اس بستی کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ یہ مرنے کے بعد اٹھنے کی امید نہیں رکھتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 40 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ اَتَوْا: اور ضرور یہ ہو آئے ہیں ۔} یعنی کفارِمکہ شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں  میں  بار بار اس بستی سے گزر چکے ہیں جس پر پتھروں  کی بری بارش کی گئی تھی توکیا کفارِ مکہ سفر کے دوران اس بستی کو اپنی آنکھوں  سے نہیں  دیکھتے تھے تاکہ ان کے انجام سے عبرت پکڑ تے اور ایمان لاتے، بلکہ ان لوگوں  کا حال یہ ہے کہ یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل ہی نہیں  کہ انہیں  آخرت کے ثواب و عذاب کی کوئی پروا ہ ہوتی،تو پھر ہلاکت کے آثار دیکھ کر یہ کس طرح عبرت حاصل کرتے اور ایمان لاتے۔

            اِس آیت میں  جس بستی پر پتھروں  کی بارش ہونے کا ذکر ہوا اس سے مراد ’’سدوم ‘‘ نامی بستی ہے جو کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی پانچ بستیوں  میں  سب سے بڑی بستی تھی۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیوں  کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ پانچوں  بستیوں  کو ہلاک کر دیاگیا اور ایک قول یہ ہے کہ ان بستیوں  میں  سب سے چھوٹی بستی کے لوگ تو اس خبیث بدکاری کے عامل نہ تھے جس میں  باقی چار بستیوں  کے لوگ مبتلا تھے، اس لئے انہوں  نے تونجات پائی جبکہ بقیہ چار بستیاں  اپنی بدعملی کے باعث آسمان سے پتھر برسا کر ہلاک کردی گئیں ۔ حقیقت میں  چار یا پانچ بستیاں  ہلاک ہوئیں  لیکن یہاں  صرف ایک کا ذکر اس لئے ہے کہ کفارِ مکہ کا تجارتی سفروں  کے درمیان جس بستی سے گزر ہوتا تھا وہ یہی تھی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now