قرآن - 25:45 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

45
أَلَمۡ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيۡفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوۡ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنٗا ثُمَّ جَعَلۡنَا ٱلشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيلٗا

Transliteration: (Alam tara ilaa Rabbika kaifa maddaz zilla wa law shaaa'a la ja'alahoo saakinan thumma ja'alnash shamsa 'alaihi daleelaa)

ترجمہ: کنزالایمان - اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ-وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًاۚ-ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًا(45)ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا(46) || اے محبوب کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا یاسایہ اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا۔ پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے حبیب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ اس نے سائے کو کیسا دراز کیا؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنادیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیا۔ || اے حبیب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ اس نے سائے کو کیسا دراز کیا؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنادیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 45 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ: اے محبوب!کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو نہ دیکھا کہ اس کی صَنعت و قدرت کیسی عجیب ہے، اس نے سائے کو صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک کیسا دراز کیا کہ اس وقت ساری روئے زمین میں  سایہ ہی سایہ ہوتا ہے نہ دھوپ ہے، نہ اندھیرا ہے، اور اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو سائے کو ایک ہی حالت پر ٹھہرا ہوا بنادیتا کہ سورج طلوع ہونے سے بھی سایہ زائل نہ ہوتا۔پھر ہم نے سورج کو سائے پر دلیل بنایا کیونکہ اگرسورج نہ ہو تو سائے کا پتہ ہی نہ چلے۔پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیا کہ طلوع کے بعد سورج جتنا اُونچا ہوتا گیا اتنا ہی سایہ سمٹتا گیا۔( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۶، ص۸۰۴-۸۰۵)

 اَشیاء کی طبعی تاثیریں  بھی اللہ تعالٰی کی مَشِیَّت کے تابع ہیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء کی طبعی تاثیریں  بھی اللہ تعالٰی کی مشیت کے تابع ہیں ، آگ کا جلانا، پانی کا پیاس بجھانا، ثقیل بدن کا سایہ بننا، سورج کا سایہ اٹھادینا سب اللہ تعالٰی کی مشیت سے ہے، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو یہ تاثیریں  ختم ہو جائیں۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now