{وَ لَوْ شِئْنَا: اور اگرہم چاہتے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم چاہتے تو پہلے زمانے کی طرح ہر بستی اور شہر میں ایک جداجداڈر سنانے والا بھیج دیتے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر سے ڈر سنانے کا بوجھ کم کردیتے لیکن ہم نے تمام بستیوں کو ڈر سنانے کا بوجھ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی پر رکھا تاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام جہان کے رسول ہو کر سب رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی فضیلتوں کے جامع ہوں اور نبوت آپ پر ختم ہو کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہو۔( روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۱، ۶ / ۲۲۶)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 51 تفسیر