Transliteration: (Qul maaa as'alukum 'alaihi min ajrin illaa man shaaa'a ai yattakhiza ilaa Rabbihee sabeelaa)
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہم نے آپ کو ایمان و طاعت پر جنت کی خوشخبری دینے والا او رکفرو مَعصِیَت پر جہنم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳ / ۳۷۷)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکوں سے فرما دیں کہ میں وحی کی تبلیغ پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا لیکن جو چاہے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف راستہ اختیار کرے اور اس کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرے۔ مراد یہ ہے کہ ایمانداروں کا ایمان لانا اور ان کاطاعت ِالٰہی میں مشغول ہونا ہی میرا اجر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی مجھے اس پر جزا عطا فرمائے گا اس لئے کہ اُمت کے نیک لوگوں کے ایمان اور اُن کی نیکیوں کے ثواب اُنہیں بھی ملتے ہیں اور اُن کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جن کی ہدایت سے وہ اس رتبہ پر پہنچے۔( روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۷، ۶ / ۲۳۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 57 تفسیر