Transliteration: (Khaalideena feehaa; hasunat mustaqarranw wa muqaamaa)
{اُولٰٓىٕكَ: انہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالٰی نے اپنے صالحین بندوں کے اوصاف ذکر فرمائے، اس کے بعد یہاں اُن کی جزا ذکر فرمائی جارہی ہے۔ چنانچہ ا س آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالٰی کی اطاعت پر ڈٹے رہنے،گناہوں سے بچنے، کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے، اِستقامت کے ساتھ عبادت کرنے اور فقر و فاقہ پر صبر کرتے رہنے کے سبب جنت کا سب سے اونچا درجہ انعام میں دیا جائے گا اور اس بلند درجے میں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔یہ استقبال یوں ہوگا کہ فرشتے دعائے خیر اورسلام کے ساتھ ان کی تعظیم و تکریم کریں گے یا یوں ہو گا کہ اللہ تعالٰی ان کی طرف سلام بھیجے گا۔مزید ارشاد فرمایاکہ وہ ا س بلند درجے میں ہمیشہ رہیں گے، وہ کیا ہی اچھی ٹھہرنے اورقیام کرنے کی جگہ ہے۔(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۸۱۲، خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۵-۷۶، ۳ / ۳۸۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 76 تفسیر