Transliteration: (Fal Yawma laa yu'khazu minkum fidyatunw wa laa minal lazeena kafaroo; ma'waakumun Naaru hiya maw laakum wa bi'sal maseer)
{فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ: تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا۔} جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ
منافقوں کو مسلمانوں سے ممتاز کر دے گا تو ارشاد فرمائے
گا’’ اے منافقو!آج تم سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا جسے دے کر تم
اپنی جان کوعذاب سے بچا سکو اور نہ ہی کھلے کافروں سے فدیہ لیا جائے
گا۔ تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اورتم اس کے علاوہ کسی اور ٹھکانے کی طرف کبھی
نہیں لوٹو گے ،وہ آگ ہی تمہاری ساتھی ہے اور وہ آگ کیا ہی برا ٹھکانہ
ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ فدیہ نہ لئے جانے کا معنی یہ ہے کہ آج تم سے ایمان
قبول کیا جائے گا اور نہ ہی توبہ قبول کی جائے گی۔( تفسیر طبری ، الحدید ، تحت الآیۃ
: ۱۵، ۱۱ / ۶۸۰ ، روح البیان، الحدید، تحت
الآیۃ: ۱۵، ۹ / ۳۶۲-۳۶۳، خازن، الحدید، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴ / ۲۲۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحديد آیت 15 تفسیر