Transliteration: (Wa laqad arsalnaa Noohanw wa Ibraaheema wa ja'alnaa fee zurriyyatihiman nubuwwata wal Kitaaba faminhum muhtad; wa kaseerum minhum faasiqoon)
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ: اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا ۔ } اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو منصبِ رسالت سے مُشَرّف فرمایا اور نبوت اور کتاب ان دونوں کی اولاد میں رکھی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعدتمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی اولاد سے ہوئے اور چاروں کتابیں یعنی توریت ،انجیل ،زبورا ور قرآنِ پاک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے منصب ِرسالت پر فائز ہونے والوں پر نازل ہوئیں ۔آخر میں ارشاد فرمایا کہ ان دونوں رسولوں کی اولاد میں سے کچھ لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور ان میں بہت زیادہ فاسق ہیں ۔( خازن، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۶، ۴ / ۲۳۲، جلالین، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۴۵۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحديد آیت 26 تفسیر