Transliteration: (Likulli ummatin ja'alnaa mansakan hum naasikoohu falaa yunaazi 'unnaka fil amr; wad'u ilaa Rabbika innaka la 'alaa hudan mustaqeem)
{لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ: ہر امت کے لیے ہم نے ایک شریعت بنا دی۔} یعنی سابقہ دین و ملت والوں میں سے ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص شریعت بنائی تاکہ وہ عبادات اور دیگر معاملات میں اپنے اپنے شرعی قوانین پر عمل کریں ، تو اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے زمانے میں موجود دیگر ملتوں والے ہرگز آپ سے دین کے معاملے میں یہ گمان کر کے جھگڑا نہ کریں کہ اِن لوگوں کی بھی شریعت وہی ہے جواِن کے آباؤ اَجداد کی تھی،وہ شریعتیں منسوخ ہونے سے پہلے سابقہ لوگوں کی شریعتیں تھیں جبکہ اِس امت کی جداگانہ اور مستقل شریعت ہے اور اب قیامت تک ہر ایک کو اسی شریعت پر عمل کرنا ہے۔ اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ تمام لوگوں کواپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلائیں اورانہیں اُس پر ایمان لانے، اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دیں ، بیشک آپ سیدھی راہ پر ہیں ۔( روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۶۷، ۶ / ۵۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحج آیت 67 تفسیر