قرآن - 69:35 سورہ الحاقة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

35
فَلَيۡسَ لَهُ ٱلۡيَوۡمَ هَٰهُنَا حَمِيمٞ

Transliteration: (Falaysa lahul yawma haahunaa hameem)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ(35)وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ(36)لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـــٴُـوْنَ(37) || تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ۔ اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ ۔ اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ۔ اور نہ دوزخیوں کے پیپ کے سوا کچھ کھانے کو ہے۔ اسے خطاکار لوگ ہی کھائیں گے۔ || تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ۔ اور نہ دوزخیوں کے پیپ کے سوا کچھ کھانے کو ہے۔ اسے خطاکار لوگ ہی کھائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحاقة آیت 35 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ: تو آج یہاں  اس کا کوئی دوست نہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن پکڑنے اور طوق ڈالے جانے کی جگہ پر کافر کا کوئی دوست نہیں  جو اسے کچھ نفع پہنچائے یا اس کی شفاعت کرے اور نہ (اس کے لئے) دوزخیوں  کے پیپ کے سوا کچھ کھانے کو ہے اور اس پیپ کو کفار ہی کھائیں  گے جو کہ خطاکار ہیں ۔( روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۷، ۱۰ / ۱۴۷-۱۴۸، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۷، ۴ / ۳۰۶، ملتقطاً)

جہنمیوں  کی پیپ کی کیفیت:

             قیامت کے دن کفار کا کوئی دوست نہ ہونے کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ‘‘(مؤمن:۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ظالموں  کا نہ کوئی دوست ہوگا اورنہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔

            اور جہنمیوں  کی پیپ کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر جہنمیوں  کی پیپ کا ایک ڈول دنیا میں  انڈیل دیا جائے تو وہ (پوری) دنیا والوں  کو بدبودار کر دے۔( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الحاقۃ، ۳ / ۳۲۷، الحدیث: ۳۹۰۴)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now