قرآن - 69:38 سورہ الحاقة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

38
فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ

Transliteration: (Falaaa uqsimu bimaa tubsiroon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ(38)وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَ(39) || تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو ۔ اور جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو مجھے ان چیزوں کی قسم ہے جنہیں تم دیکھتے ہو۔ اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے۔ || تو مجھے ان چیزوں کی قسم ہے جنہیں تم دیکھتے ہو۔ اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحاقة آیت 38 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ: تو مجھے ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم دیکھتے ہو۔} قیامت کے واقع ہونے اور سعادت مندوں  اور بد بختوں  کے اَحوال بیان کرنے کے بعد اب یہاں  سے قرآنِ پاک کی عظمت و شان بیان کی جا رہی ہے، چنانچہ اس آ یت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ مشرکین قرآنِ پاک کے بارے میں  جو کہتے ہیں  وہ ہر گز درست نہیں  ، مجھے ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم نہیں  دیکھتے۔

              یہاں  مَا تُبْصِرُوْنَ اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ کی تفسیر میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ۔

(1)…ان سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات کی قسم جنہیں  تم دیکھ سکتے ہواور جنہیں  تم نہیں  دیکھ سکتے۔

(2)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے دُنیا اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے آخرت مراد ہے۔

(3)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے مراد وہ چیزیں  ہیں  جو زمین کے اوپر موجود ہیں  اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے وہ چیزیں  مراد ہیں  جو زمین کے اندر موجود ہیں ۔

(4)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے اجسام مراد ہیں  اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے روحیں  مراد ہیں ۔

(5)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے ظاہری نعمتیں  مراد ہیں  اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے باطنی نعمتیں مراد ہیں ۔ ان کی تفسیر میں  مفسرین کے اور بھی قول ہیں ۔( تفسیر کبیر ، الحاقۃ ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۱۰ / ۶۳۳، روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۱۰ / ۱۴۸، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۴ / ۳۰۶، ملتقطاً)

            اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سارے ہی معانی مراد ہوں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now