قرآن - 59:11 سورہ الحشر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

11
۞أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نَافَقُواْ يَقُولُونَ لِإِخۡوَٰنِهِمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَئِنۡ أُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمۡ أَحَدًا أَبَدٗا وَإِن قُوتِلۡتُمۡ لَنَنصُرَنَّكُمۡ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ

Transliteration: (Alam tara ilal lazeena naafaqoo yaqooloona li ikhwaanihimul lazeena kafaroo min ahlil kitaabi la'in ukhrijtum lanakhrujanna ma'akum wa laa nutee'u feekum ahadan abadanw-wa in qootiltum lanansuran nakum wallaahu yashhadu innahum lakaaziboon)

ترجمہ: کنزالایمان - اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَىٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًاۙ-وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(11) || کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا کہ اپنے بھائیوں کافر کتابیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کبھی کسی کی نہ مانیں گے اور تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا کہ اپنے اہلِ کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ قسم ہے اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ ضرور جھوٹے ہیں ۔ || کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا کہ اپنے اہلِ کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ قسم ہے اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ ضرور جھوٹے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحشر آیت 11 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا: کیا تم نے منافقوں  کو نہ دیکھا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،کیا آپ نے عبد اللّٰہ بن اُبی سلول منافق اور اس کے ساتھیوں  کو نہ دیکھاکہ اپنے اہل ِکتاب کافر بھائیوں  بنو قریظہ اور بنو نضیر سے کہتے ہیں  کہ اگر تم مدینہ منورہ سے نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں  گے اور ہرگز تمہارے  خلاف کسی کا کہا نہ مانیں  گے نہ مسلمانوں  کا نہ رسولِ اکرم کا ،اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں  گے اور تمہارے ساتھ مل کر لڑیں  گے ۔ اللّٰہ تعالیٰ گواہ ہے کہ یہودیوں  سے منافقین کے یہ سب وعدے جھوٹے ہیں ۔( روح البیان،الحشر،تحت الآیۃ: ۱۱، ۹ / ۴۳۸، خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۵۰، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۲۲۶، ملتقطاً)

آیت ’’ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے چار باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)… منافق کفار کے بھائی ہیں  مومنوں  کے بھائی نہیں ، اگرچہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں  لیکن وقت پر کفار ہی کا ساتھ دیتے ہیں ۔

(2)… کفار کو بھائی سمجھنا اور بھائی کہنا منافقوں  کا کام ہے۔

(3)… منافق در حقیقت کسی کا ساتھی نہیں  اور نہ ہی اس کے وعدوں  کا کوئی اعتبار ہے، نہ کفار کو اس پر اعتبار آتا ہے اور نہ مسلمانوں  کو۔

(4)…اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کے خفیہ رازوں  پر اطلاع دیتا ہے کیونکہ منافقوں کی یہ گفتگو نہایت راز داری کے ساتھ تنہائی میں  ہوئی تھی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now