قرآن - 3:107 سورہ آل عمران ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

107
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱبۡيَضَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فَفِي رَحۡمَةِ ٱللَّهِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ

Transliteration: (Wa ammal lazeena bi yaddat wujoohuhum fafee rahmatil laahi hum feehaa khaalidoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ  اَمَّا  الَّذِیْنَ  ابْیَضَّتْ  وُجُوْهُهُمْ  فَفِیْ  رَحْمَةِ  اللّٰهِؕ-هُمْ  فِیْهَا  خٰلِدُوْنَ(107) || اور وہ جن کے منہ اونجالے (روشن)ہوئے وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ || اور وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 107 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَفِیْ  رَحْمَةِ  اللّٰهِ: تواللہ کی رحمت میں ہوں گے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار مومن اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جگہ جنت میں ہوں گے اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۱ / ۲۸۷)

             اللہ تعالیٰ اپنے اطاعت گزار اہلِ ایمان کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (یونس :۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

             اور ارشاد فرمایا:

وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ (عبس: ۳۸، ۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بہت سے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے۔

قیامت کے دن روشن چہرے والے لوگ:

            روشن چہرے والوں سے مراد کون لوگ ہیں ، درج ذیل روایات کی روشنی میں دیکھیں۔

             تفسیر دُرمنثو ر میں ہے،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما اس آیتِ کریمہ ’’ تَبْیَضُّ   وُجُوْهٌ  وَّ  تَسْوَدُّ  وُجُوْهٌ ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’ تَبْیَضُّ وُجُوْہُ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَہْلِ الْبِدَعِ وَ الضَّلَالَۃِ ‘‘یعنی قیامت کے دن اہلسنّت کے چہرے چمکتے ہوں گے اور بدعتی و گمراہوں کے چہرے سیا ہ ہوں گے ‘‘ اور اسی میں حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ایک حدیث شریف روایت ہے کہ  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’  تَبْیَضُّ   وُجُوْهٌ  وَّ  تَسْوَدُّ  وُجُوْهٌ ‘‘ کے بارے میں فرمایا’’ تَبْیَضُّ وُجُوْہُ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَہْلِ الْبِدَعِ ‘‘قیامت کے دن اہلسنّت والجماعت کے چہرے سفید چمکتے ہوں گے اور گمراہوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔

            اور ایک دوسری روایت میں ہے جو کہ حضرت ابوسعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیتِ کریمہ’’  تَبْیَضُّ   وُجُوْهٌ  وَّ  تَسْوَدُّ  وُجُوْهٌ ‘‘تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا ’’تَبْیَضُّ وُجُوہُ اَھْلِ الْجَمَاعَاتِ وَالسُّنَّۃِ ، وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَہْلِ الْبِدَعِ وَالْاَھْوَاءِ‘‘ یعنی قیامت کے دن اہلسنّت وجماعت کے چہرے سفید چمکتے ہوں گے اور بدعتی وگمراہوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔(در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲ / ۲۹۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now