Transliteration: (Qul lillazeena kafaroosatughlaboona wa tuhsharoona ilaa jahannam; wa bi'sal mihaad)
{سَتُغْلَبُوْنَ: عنقریب تم مغلوب ہوجاؤگے۔ }حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جب بدر میں کفار کو رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ شکست دے کر مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو یہودیوں نے کہا کہ’’ قریش تو فُنونِ حَرب (جنگی طریقوں ) سے نا آشنا ہیں ، (اسی لئے شکست کھا گئے۔) اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو معلوم ہوجائے گا کہ لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۱۵۸)
اور انہیں یہ غیبی خبر دی گئی کہ’’ وہ دنیا میں مغلوب ہوں گے، قتل کئے جائیں گے ،گرفتار کئے جائیں گے اور ان پر جِزیَہ مقرر کیا جائے گا اور آخرت میں دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کچھ ہی عرصے میں یہودی قتل بھی ہوئے، گرفتار بھی کئے گئے اور اہلِ خبیر پر جزیہ بھی مقرر کیا گیا اور قیامت کے دن انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 12 تفسیر