Transliteration: (Wa maa kaana linafsin an tamoota illaa bi iznillaahi kitaabam mu'ajjalaa; wa mai yurid sawaabad dunyaa nu'tihee minhaa wa mai yurid sawaabal Aakhirati nu'tihee minhaa; wa sanajzish shaakireen)
{كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا: سب کا وقت لکھا ہوا ہے۔} اس آیت میں جہاد کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو دُشمن کے مقابلہ پر جری بنایا جارہا ہے کہ کوئی شخص بغیر حکمِ الٰہی کے مر نہیں سکتا، چاہے وہ کتنی ہی ہلاکت خیزلڑائی میں شرکت کرے اورکتنے ہی تباہ کن میدانِ جنگ میں داخل ہوجائے ، جبکہ اس کے برعکس جب موت کا وقت آتا ہے تو کوئی تدبیر نہیں بچاسکتی خواہ وہ ہزاروں پہرے دار اور محافظ مقرر کرلے اور قلعوں میں جاچھپے کیونکہ ہر ایک کی موت کا وقت لکھا ہوا ہے ،وہ وقت آگے پیچھے نہیں ہوسکتا ۔
{وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا: اور جو دنیا کا انعام چاہتا ہے۔} یہاں سے لوگوں کے دو گروہوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ جو شخص صرف دنیاکی نعمتیں اور آسائشیں چاہتا ہے اور اس کے عمل سے صرف دنیا کا حصول مقصود ہوتا ہے ہم اسے دنیا دیدیتے ہیں یعنی اُس کے عمل پر اُسے دنیا کا فائدہ مل جاتا ہے اور چونکہ آخرت اس کا مطلوب نہیں لہٰذا آخرت کے ثواب سے وہ محروم رہتا ہے۔ جبکہ جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا طالب ہوتا ہے اسے اُخروی ثواب عطا فرمایا جاتا ہے اور دنیا تو سب کو مل ہی جاتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا اعمال میں دارومدار نیت پر ہے جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث ہے ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتْ‘‘ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔(بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۱ / ۵، الحدیث: ۱)
جیسے یہاں جہاد کی بات چل رہی ہے تو جس کا مقصد جہاد سے صرف شہرت ، دولت اور مالِ غنیمت ہوگا ، ہوسکتا ہے کہ اسے یہ چیزیں مل جائیں لیکن آخرت کا ثواب ہرگز نہیں ملے گا جبکہ اگر وہ آخرت کا طلبگارہو تو آخرت کا ثواب تو اسے ملے گا ، اس کے ساتھ وہ عزت و شہرت اور مالِ غنیمت سے بھی محروم نہیں رہے گا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 145 تفسیر