{وَ لَىٕنْ مُّتُّمْ: اور اگر تم مرجاؤ ۔ } صدرُالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہاں نہایت پُر لطف تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہاں مقاماتِ عبدیت کے تینوں مقاموں کا بیان فرمایاگیا پہلا مقام تو یہ ہے کہ بندہ بخوفِ دوزخ اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کی عبادت کرے تو اُس کو عذابِ نار سے امن دی جاتی ہے، اس کی طرف’’لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ ‘‘ میں اشارہ ہے۔ دُوسری قسم وہ بندے ہیں جو جنت کے شوق میں اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کی عبادت کرتے ہیں اس کی طرف ’’وَرَحْمَۃٌ‘‘ میں اشارہ ہے کیونکہ رحمت بھی جنت کا ایک نام ہے۔ تیسری قِسم وہ مخلص بندے ہیں جو عشقِ الہٰی اور ا س کی ذاتِ پاک کی محبت میں اِس کی عبادت کرتے ہیں اور اُن کا مقصود اُس کی ذات کے سوا اور کچھ نہیں ہے اِنہیں حق سبحانہُ وتعالیٰ اپنے دائرۂ کرامت میں اپنی تَجلّی سے نوازے گا اِس کی طرف ’’لَاِالَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ‘‘ میں اشارہ ہے ۔ (خزائن العرفان، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ص۱۴۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 158 تفسیر