{فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ:تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے۔} یہاں من گھڑت امیدوں کی سواری پر بیٹھ کر خیالات کی دنیا میں سیاحت کرنے والوں کی بات ہورہی ہے جو عقیدۂ صحیحہ سے لاتعلق اور اعمالِ صالحہ سے دور ہونے کے باوجود خواب و خیال میں اپنے آپ کو جنت کے بلند و بالا محلات میں قیام پذیر سمجھتے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن ان لوگوں کی کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں جمع کریں گے اور جب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 25 تفسیر