قرآن - 3:46 سورہ آل عمران ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

46
وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلٗا وَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

Transliteration: (Wa yukallimun naasa filmahdi wa kahlanw wa minassaaliheen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(46) || اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اوروہ لوگوں سے جھولے میں اور بڑی عمر میں بات کرے گا اور خاص بندوں میں سے ہوگا۔ || اوروہ لوگوں سے جھولے میں اور بڑی عمر میں بات کرے گا اور خاص بندوں میں سے ہوگا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 46 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ: اور وہ لوگوں سے جھولے میں کلام کرے گا۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تین شانیں یہاں بیان ہوئیں۔

(1)… بات کرنے کی عمر سے پہلے ہی کلام کریں گے چنانچہ سورۂ مریم آیت29تا33میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام مذکور ہے۔

(2)…پکی عمر میں لوگوں سے کلام فرمائیں گے اور وہ یوں کہ آسمان سے اترنے کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں سے کلام فرمائیں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور دَجال کو قتل کریں گے۔ لہٰذا جیسے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بچپن میں کلام کرنا معجزہ ہے، ایسے ہی پکی عمر میں اس طرح کلام کرنا معجزہ ہے ۔

(3)…اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں سے ہیں۔

حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات:

            مجموعی طور پر سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 45اور 46میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہت سی صفات بیان ہوئیں:

(1)…کلمۃُ اللہ ہونا۔

 (2)… مسیح ہونا۔

(3)… حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا بیٹا ہونا۔

(4)…بغیر باپ کے پیدا ہونا۔

(5)… دنیا میں عزت والا ہونا کہ قرآن کے ذریعے سارے عالَم میں ان کے نام کی دھوم مچا دی گئی۔ آخرت میں خصوصی عزت والا ہونابہت سے طریقوں سے ہوگا، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیامت میں انہی کے ذریعہ مخلوق کوحضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تک رہنمائی ملے گی۔

(6)… بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں بہت زیادہ قرب و منزلت رکھنے والا ہونا وغیرہ ۔ معلوم ہوا کہ پیغمبروں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نعت خوانی سنت اِلٰہیہ ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now