Transliteration: (Inna masala 'Eesaa 'indal laahi kamasali Aadama khalaqahoo min turaabin summa qaala lahoo kun fayakoon)
{اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى: بیشک عیسیٰ کی مثال۔} علاقہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں آیا اور وہ لوگ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہنے لگے کہ’’ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ گمان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ہیں۔ فرمایا:’’ ہاں ، اس کے بندے اور اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے کنواری پاک مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو عطا فرمایا۔ عیسائی یہ سن کر بہت غصہ میں آئے اور کہنے لگے: اے محمد! کیا تم نے کبھی بے باپ کا انسان دیکھا ہے؟ اس سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدا عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے ہیں۔ (معاذاللہ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو صرف بغیر باپ کے پیدا ہوئے جبکہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر مٹی سے پیدا کیے گئے تو جب انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مخلوق اور بندہ مانتے ہو تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مخلوق و بندہ ماننے میں کیا تعجب ہے؟ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۵۹، ۱ / ۲۵۷، تفسیر قرطبی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۵۹، ۲ / ۷۹-۸۰، الجزء الرابع، ملتقطاً) لہٰذا جیسے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر نطفہ کے بنے،ایسے ہی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔تو جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا کے بیٹے نہ ہوئے تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 59 تفسیر