{قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ: تم فرماؤ :اے اہلِ کتاب!} اس آیت میں بھی اہلِ کتاب ہی سے خطاب ہے کہ’’ اے اہلِ کتاب! تم ان لوگوں کو جن کے دلوں میں ابھی ایمان مضبوط نہیں ہوا، انہیں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں توریت کی آیتیں چھپا کر اور یہ کہہ کر کیوں بہکاتے ہو کہ’’ یہ وہ نبی نہیں جن کی خبر توریت و انجیل میں ہے۔یہ کہہ کرتم انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے کیوں روکتے ہو؟ حالانکہ تم خود اس بات کے گواہ ہو کہ سید ِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان توریت میں لکھی ہوئی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جو دین مقبول ہے وہ صرف دین اسلام ہی ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 99 تفسیر