Transliteration: (Wa laqad aatainaa Moosaa tis'a Aayaatim baiyinaatin fas'al Baneee Israaa'eela iz jaaa'ahum faqaala lahoo Fir'awnu inee la azunnuka yaa Moosaa mas hooraa)
{تِسْعَ اٰیٰتٍ: نو نشانیاں ۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو نونشانیاں عطا کی گئیں وہ یہ ہیں : (1) عصا، (2) ید ِبیضا، (3) بولنے میں دِقَّت جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبان مبارک میں تھی پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اسے دور فرما دیا، (4) دریا کا پھٹنا اور اس میں رستے بننا، (5) طوفان، (6) ٹڈی، (7) گھن، (8) مینڈک، (9) خون۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳ / ۱۹۴)ان میں سے آخری6 نشانیوں کا مُفَصَّل بیان نویں پارے کے چھٹے رکوع میں گزر چکاہے۔ ان مذکورہ بالا میں سے بعض تو معجزے تھے اور بعض فرعون پر عذاب جو بالواسطہ معجزے تھے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالفت ہی کی وجہ سے فرعون پر عذاب آئے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 101 تفسیر