Transliteration: (Qul aaminoo biheee aw laa tu'minoo; innal lazeena ootul 'ilma min qabliheee izaa yutlaa 'alaihim yakhirroona lil azqaani sujjadaa)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم ان لوگوں سے فرما دو کہ اے لوگو! تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ اور اپنے لئے نعمت ِآخرت اختیار کرو یا عذابِ جہنم ، وہ تمہاری مرضی ہے لیکن جن سلیم الفطرت لوگوں کو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے کسی آسمانی کتاب کاعلم دیا گیا یعنی مومنین اہلِ کتاب جو رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعْثَت سے پہلے انتظار و جستجو میں تھے اور حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بعثت کے بعد شرفِ اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ حضرت زید بن عمرو بن نفیل اور حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو ذر وغیر ہم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ، تو جب ان حضرات کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں ۔( مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ص۶۳۹، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۳ / ۱۹۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 107 تفسیر