قرآن - 17:2 سورہ الإسراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

2
وَءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُواْ مِن دُونِي وَكِيلٗا

Transliteration: (Wa aatainaa Moosal-Kitaaba wa ja'alnaahu hudal-liBaneee Israaa'eel; allaa tat-takhizoo min doonee wakeelaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاﭤ(2) || اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہراؤ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔ || اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 2 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ:اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی ۔} اس سے پہلی آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرمایا اور اس آیت میں  وہ اپنے اس اکرام کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتاب تورات عطا فرمائی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ وہ اس کتاب کے ذریعے انہیں  جہالت اور کفر کے اندھیروں  سے علم اور دین کے نور کی طرف نکالتے ہیں  تاکہ اے بنی اسرائیل ! تم میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔( تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲، ۷ / ۲۹۷)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now