قرآن - 17:22 سورہ الإسراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

22
لَّا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُومٗا مَّخۡذُولٗا

ترجمہ: کنزالایمان - كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَؕ-وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا(20)اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا(21)لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا(22) || ہم سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی تمہارے رب کی عطا سے اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں ۔ دیکھو ہم نے ان میں ایک کو ایک پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے۔ اے سننے والے اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو بیٹھ رہے گا مذمت کیا جاتا بیکس۔ ترجمہ: کنزالعرفان ہم آپ کے رب کی عطا سے اِن (دنیا کے طلبگاروں ) اور اُن ( آخرت کے طلبگاروں )سب کی مدد کرتے ہیں اور تمہارے رب کی عطا پر کوئی روک نہیں ۔ دیکھو! ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجات کے اعتبار سے سب سے بڑی ہے اور فضیلت میں سب سے بڑی ہے۔ اے سننے والے! اللہ کے ساتھ دوسرامعبود نہ ٹھہرا ،ورنہ تُو مذموم ، بے یارو مددگار ہو کر بیٹھا رہے گا۔ || ہم آپ کے رب کی عطا سے اِن (دنیا کے طلبگاروں ) اور اُن ( آخرت کے طلبگاروں )سب کی مدد کرتے ہیں اور تمہارے رب کی عطا پر کوئی روک نہیں ۔ دیکھو! ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجات کے اعتبار سے سب سے بڑی ہے اور فضیلت میں سب سے بڑی ہے۔ اے سننے والے! اللہ کے ساتھ دوسرامعبود نہ ٹھہرا ،ورنہ تُو مذموم ، بے یارو مددگار ہو کر بیٹھا رہے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 22 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{كُلًّا نُّمِدُّ: ہم سب کی مدد کرتے ہیں ۔} اس آیت میں  ارشاد فرمایا کہ جو دنیا چاہتے ہیں  اور جو طالبِ آخرت ہیں  ہم سب کی مدد کرتے ہیں ۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳ / ۱۷۰) چنانچہ دیکھ لیں  کہ کفار اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن ہیں  لیکن وہ چونکہ دنیا کے طالب ہیں  اور اس کیلئے کوشش کرتے ہیں  تو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں  بھی عطا فرمایا ہے بلکہ ہمارے زمانے میں  تودُنْیوی ترقی میں  وہ مسلمانوں  سے بہت آگے ہیں  اور یونہی جو مسلمان محنت کرتا ہے وہ بھی اپنی محنت کا صلہ پاتا ہے ۔ الغرض دنیا میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سب کو عطا فرما رہا ہے  ، سب کو روزی مل رہی ہے، دنیا میں  سب اس سے فیض اُٹھاتے ہیں  نیک ہوں  یا بد البتہ انجام ہر ایک کا اس کے حسبِ حال ہوگا ،اور اگلی آیت میں  فرمایا کہ  دیکھو! ہم نے ان میں  ایک کو دوسرے پر مال ، عزت، شہرت، کمال میں  بڑائی دی ہے لیکن ان تمام چیزوں  کے ساتھ یہ حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ درجات اور فضیلت کے اعتبار سے آخرت ہی سب سے بڑی چیز ہے ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now