قرآن - 17:25 سورہ الإسراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

25
رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمۡۚ إِن تَكُونُواْ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلۡأَوَّـٰبِينَ غَفُورٗا

Transliteration: (Rabbukum a'lamu bimaa fee nufoosikum; in takoonoo saaliheena fa innahoo kaana lil awwaabeena Ghafoooraa)

ترجمہ: کنزالایمان - رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْؕ-اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(25) || تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔ || تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 25 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{رَبُّكُمْ اَعْلَمُ: تمہارا رب خوب جانتا ہے۔} آیت کا مفہوم اپنے اِطلاق پر بھی ہے اور والدین کی خدمت کے حوالے سے لیں  تو معنی یہ ہوگا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں  میں  والدین کی اطاعت کا کتنا ارادہ ہے اور اُن کی خدمت کا کتنا ذوق ہے۔ ہاں  اگر یہ ہوا کہ  تمہارے دلوں  میں  توماں  باپ کی خدمت کا شوق تھا لیکن اس کا موقعہ نہیں  ملا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس پر پکڑ نہ فرمائے گا کیونکہ وہ ارادوں  اور نیتوں  کوجانتا ہے اور یونہی تم واقعی نیک تھے اور اس کے باوجود  تم سے والدین کی خدمت میں  کوئی کمی واقع ہوگئی اور تم نے توبہ کرلی تو اللّٰہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمالے گا کیونکہ وہ بخشنے والا ہے۔( مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۶۲۱، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۱۷۱-۱۷۲، ملتقطاً)

            یہاں  یہ یاد رہے کہ حقوقِ والدین میں  اگر کوئی کمی ہوئی تو جب تک اس کی تَلافی ممکن ہو تلافی بھی کرنا ضروری ہے جیسے اگر ان کا دل دکھایا تو ان سے معافی مانگنا بھی ضروری ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now