Transliteration: (Subhaanahoo wa Ta'aalaa 'ammaa yaqooloona 'uluwwan kabeeraa)
{قُلْ: تم فرماؤ۔}اس آیت میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی توحید کی ایک قطعی مگر نہایت عام فہم دلیل بیان فرمائی ہے کہ بالفرض اگر دو خدا ہوتے تو ان میں ایک کادوسرے سے ٹکراؤ لازمی طور پر ممکن ہوتا جیسے ان میں سے ایک ارادہ کرتا کہ زید حرکت کرے اور دوسرا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ساکن رہے ۔اب حرکت اور سکون دونوں چیزیں فی نفسہ ممکن تو ہیں ، اسی طرح دو خداؤں کا حرکت اور سکون میں سے ہر ایک چیز کا ارادہ کرنا بھی ممکن ہے لیکن دونوں کے ارادے کے بعد ہوتا کیا؟ اگر ان کے ارادوں کے مطابق حرکت اور سکون دونوں چیزیں واقع ہوں تو دو مُتَضاد چیزوں کا جمع ہونا لازم آئے گا اور اگر دونوں واقع نہ ہوں تو ان خداؤں کا عاجز ہونا لازم آئے گا اور اگر ایک واقع ہو دوسری نہ ہو تو دونوں میں سے ایک خدا کا عاجز ہونا لازم آئے گا اور جو عاجز ہے وہ خدا نہیں کیونکہ عاجز ہونا محتاجی اور نقص ہے اور وا جبُ الوجود ہونے کے مُنافی ہے تو ثابت ہوا کہ دو خدا ہونا ہی محال ہے ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 43 تفسیر