Transliteration: (Qulid 'ul lazeena za'amtum min doonihee falaa yamlikoona kashfad durri'ankum wa laa tahweelaa)
{قُلْ:تم فرماؤ۔} آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب کفار شدید قحط میں مبتلا ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتے اور مردار کھا گئے اور بالآخر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں فریاد لے کر آئے اور آپ سے دعا کی اِلتجا کی تواس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جب بتوں کو خدا مانتے ہو تو اس وقت انہیں پکارو اور وہ تمہاری مدد کریں اور جب تم جانتے ہو کہ وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے تو کیوں انہیں معبود بناتے ہو۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳ / ۱۷۸)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بت معبود نہیں ، نہ تو اس پر قادر ہیں کہ تکلیف مٹا دیں اور نہ اس پر کہ تم سے مصیبت منتقل کرکے دوسرے پر ڈال دیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 56 تفسیر