قرآن - 17:56 سورہ الإسراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

56
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمۡلِكُونَ كَشۡفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمۡ وَلَا تَحۡوِيلًا

Transliteration: (Qulid 'ul lazeena za'amtum min doonihee falaa yamlikoona kashfad durri'ankum wa laa tahweelaa)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا(56) || تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دو ر کرنے اور نہ پھیر دینے کا۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ: پکارو انہیں جن کو تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو تووہ تم سے تکلیف ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ اسے پھیر دینے کا۔ || تم فرماؤ: پکارو انہیں جن کو تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو تووہ تم سے تکلیف ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ اسے پھیر دینے کا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 56 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ:تم فرماؤ۔} آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب کفار شدید قحط میں  مبتلا ہوئے اور نوبت یہاں  تک پہنچی کہ کتے اور مردار کھا گئے اور بالآخر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  فریاد لے کر آئے اور آپ سے دعا کی اِلتجا کی تواس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جب بتوں  کو خدا مانتے ہو تو اس وقت انہیں  پکارو اور وہ تمہاری مدد کریں  اور جب تم جانتے ہو کہ وہ تمہاری مدد نہیں  کرسکتے تو کیوں  انہیں  معبود بناتے ہو۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳ / ۱۷۸)

            خلاصہ یہ ہے کہ یہ بت معبود نہیں ، نہ تو اس پر قادر ہیں  کہ تکلیف مٹا دیں  اور نہ اس پر کہ تم سے مصیبت منتقل کرکے دوسرے پر ڈال دیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now