Transliteration: (Inna 'ibaadee laisa laka 'alaihim sultaan; wa kafaa bi Rabbika Wakeelaa)
{اِنَّ عِبَادِیْ:بیشک میرے بندے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے ابلیس سے ارشاد فرمایا کہ تجھے مہلت اور اختیار دیا گیا کہ تو میری مخلوق کو گمراہ کردے اور اپنے جال میں پھنسائے مگر میرے وہ بندے جو اصحابِ فضل وصلاح ہیں جیسے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہیں میں تجھ سے محفوظ رکھوں گا اور شیطانی مکرو فریب اور وَساوِس ان سے دور کروں گا۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳ / ۱۸۲، ملخصاً)
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم اور اولیاء کرام محفوظ ہوتے ہیں :
انہی آیات کی بنا پر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ معصوم ہیں اور انہی کو سامنے رکھ کر علماء نے فرمایا ہے کہ اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بھی گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص بندوں میں وہ بھی شامل ہیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 65 تفسیر