Transliteration: (Wa in kaadoo la yaftinoonaka 'anil lazeee awhainaaa ilaika litaftariya 'alainaaa ghairahoo wa izallat takhazooka khaleelaa)
{لَیَفْتِنُوْنَكَ: کہ تمہیں ہٹادیں ۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد سرکارِدوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس آکر کہنے لگا کہ اگر آپ تین باتیں منظور کرلیں تو ہم آپ کی بیعت کرلیں گے ، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انہوں نے کہا: یا رسولَ اللّٰہ ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی طرف سے ہمیں ایسا اعزاز ملے جو دوسروں کو نہ ملا ہو تاکہ ہم فخر کر سکیں اور اس میں اگر آپ کو اندیشہ ہو کہ عرب کے دوسرے لوگ شکایت کریں گے تو آپ اُن سے کہہ دیجئے گا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم ہی ایسا تھا یعنی مَعَاذَاللّٰہ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھ دیجئے گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر سمرقندی، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۳، ۲ / ۲۷۸، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۳، ۳ / ۱۸۴، ملتقطاً) اور بتا دیا گیا ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تربیت اور معاملات کی نگہبانی تو خود اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرسکیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 73 تفسیر