قرآن - 17:84 سورہ الإسراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

84
قُلۡ كُلّٞ يَعۡمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ أَهۡدَىٰ سَبِيلٗا

Transliteration: (Qul kulluny ya'malu 'alaa shaakilatihee fa rabbukum a'lamu biman huwa ahdaa sabeelaa (section 9))

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ-فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا(84) || تم فرماؤ سب اپنے کینڈے پر کام کرتے ہیں تو تمہارا رب خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ: سب اپنے اپنے انداز پر کام کرتے ہیں تو تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو زیادہ ہدایت کے راستے پر ہے۔ || تم فرماؤ: سب اپنے اپنے انداز پر کام کرتے ہیں تو تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو زیادہ ہدایت کے راستے پر ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 84 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ: تم فرماؤ۔} ارشاد فرمایا کہ ہر کوئی اپنے اپنے انداز پر کام کرتا ہے ، جس کی فطرت اور اصل، شریف اور طاہر ہو ، اُس سے اَفعالِ جمیلہ اور اَخلاقِ پاکیزہ صادر ہوتے ہیں  اور جس کا نفس خبیث ہے اس سے افعالِ خبیثہ سرزد ہوتے ہیں ۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳ / ۱۸۹) اِس آیت کی روشنی میں  ہر کوئی اپنے بارے میں  غور کرے کہ اس کا تعلق کس گروہ سے ہے اور غور کرنے کے بعد جو شخص اپنے نفس میں  بھلائی، اطاعت اور شکر پائے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد بجا لائے اور جو اپنے نفس میں  شر، فسق ، ناشکری اور مایوسی پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اُس وقت کے آنے سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کر لے جب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now