Transliteration: (Qul kulluny ya'malu 'alaa shaakilatihee fa rabbukum a'lamu biman huwa ahdaa sabeelaa (section 9))
{قُلْ: تم فرماؤ۔} ارشاد فرمایا کہ ہر کوئی اپنے اپنے انداز پر کام کرتا ہے ، جس کی فطرت اور اصل، شریف اور طاہر ہو ، اُس سے اَفعالِ جمیلہ اور اَخلاقِ پاکیزہ صادر ہوتے ہیں اور جس کا نفس خبیث ہے اس سے افعالِ خبیثہ سرزد ہوتے ہیں ۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳ / ۱۸۹) اِس آیت کی روشنی میں ہر کوئی اپنے بارے میں غور کرے کہ اس کا تعلق کس گروہ سے ہے اور غور کرنے کے بعد جو شخص اپنے نفس میں بھلائی، اطاعت اور شکر پائے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد بجا لائے اور جو اپنے نفس میں شر، فسق ، ناشکری اور مایوسی پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اُس وقت کے آنے سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کر لے جب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 84 تفسیر