Transliteration: (Qul la'inij tama'atil insu waljinnu 'alaaa any ya'too bimisli haazal quraani laa ya'toona bimislihee wa law kaana ba'duhum liba 'din zaheeraa)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اگر تمام جن و اِنس اِس پر متفق ہوجائیں کہ فصاحت و بلاغت ، حسن ِترتیب ، علومِ غَیبِیہ اور معارفِ الٰہیہ وغیرہا میں سے کسی کمال میں قرآن کے برابر کوئی چیز لے آئیں تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ مشرکین نے کہا تھا کہ ہم چاہیں تو اس قرآن کی مثل بنالیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اُن کی تکذیب کی کہ خالق کے کلام کے مثل مخلوق کا کلام ہوہی نہیں سکتا۔اگر وہ سب باہم مل کر کوشش کریں جب بھی ممکن نہیں کہ اِس کلام کے مثل لاسکیں چنانچہ ایسا ہی ہوا، تمام کفار عاجز ہوئے اور انہیں رسوائی اُٹھانا پڑی اور وہ ایک سطر بھی قرآن کریم کے مقابل بنا کر پیش نہ کرسکے۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۹۱، مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۶۳۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 88 تفسیر