Transliteration: (Wa tarash shamsa izaa tala'at tazaawaru 'an kahfihim zaatal yameeni wa izaa gharabat taqriduhum zaatash shimaali wa hum fee fajwatim minh; zaalika min Aayaatillaah; mai yahdil laahu fahuwal muhtad, wa mai yudlil falan tajida lahoo waliyyam murshidaa (section 2))
{وَ تَرَى الشَّمْسَ: اور تم سورج کو دیکھو گے۔} آیت میں فرمایا گیا کہ سورج اصحاب ِ کہف کے دائیں اور بائیں ہوکر گزرتا ہے یعنی ان پر تمام دن سایہ رہتا ہے اور طلوع سے غروب تک کسی وقت بھی دھوپ کی گرمی انہیں نہیں پہنچتی۔( مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۶۴۴)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ان کا غار جنوب رخ (میں ) واقع ہوا ہے کہ سورج نکلتے وقت بائیں اور غروب کے وقت داہنے ہو جاتا ہے اور ان پر کسی وقت دھوپ نہیں پہنچتی، یہ ہی تفسیر زیادہ قوی ہے۔( نور العرفان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۷۰)آیت میں مزید فرمایا کہ حالانکہ وہ اس غار کے کھلے حصے میں ہیں گویا ہر وقت انہیں تازہ ہوائیں پہنچتی رہتی ہیں یعنی وہ کھلے میدان میں ہونے کے باوجود دھوپ سے محفوظ ہیں ، یا تو ان کی یہ کرامت ہے یا کچھ رخ ہی ایسا ہے ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 17 تفسیر