قرآن - 18:21 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ إِذۡ يَتَنَٰزَعُونَ بَيۡنَهُمۡ أَمۡرَهُمۡۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنٗاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا

Transliteration: (Wa kazaalika a'sarnaa 'alaihim liya'lamooo anna wa'dal laahi haqqunw wa annas Saa'ata laa raiba feehaa iz yatanaaza'oona bainahum amrahum faqaalub noo 'alaihim bunyaanaa; Rabbuhum a'lamu bihim; qaalal lazeena ghalaboo 'alaaa amrihim lanat takhizanna 'alaihim masjidaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا ﱐ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًاؕ-رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْؕ-قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا(21) || اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اسی طرح ہم نے ان پر مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کچھ شبہ نہیں ، جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو کہنے لگے : ان کے غار پر کوئی عمارت بنادو ، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، جو لوگ اپنے اس کام میں غالب رہے تھے انہوں نے کہا: ہم ضرور ان کے قریب ایک مسجد بنائیں گے۔ || اور اسی طرح ہم نے ان پر مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کچھ شبہ نہیں ، جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو کہنے لگے : ان کے غار پر کوئی عمارت بنادو ، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، جو لوگ اپنے اس کام میں غالب رہے تھے انہوں نے کہا: ہم ضرور ان کے قریب ایک مسجد بنائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ كَذٰلِكَ: اور اسی طرح۔} ارشاد فرمایا کہ جیسے ہم نے اصحاب ِ کہف کو جگایا تھا اسی طرح ہم نے لوگوں کو دقیانوس کے مرنے اور مدت گزر جانے کے بعداصحاب ِ کہف کے بارے میں  مطلع کردیا تاکہ تمام لوگ اور بالخصوص بیدروس بادشاہ کی قوم کے منکرین ِقیامت جان لیں  کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں  کچھ شبہ نہیں  ۔ پھر اصحاب ِ کہف کی وفات کے بعد ان کے اردگرد عمارت بنانے میں  لوگ باہم جھگڑنے لگے تو کہنے لگے : ان کے غار پر کوئی عمارت بنادو۔ ان کا رب عَزَّوَجَلَّ انہیں  خوب جانتا ہے جو لوگ اپنے اس کام میں  غالب رہے تھے  یعنی بیدروس بادشاہ اور اس کے ساتھی، انہوں  نے کہا: ہم ضرور ان کے قریب ایک مسجد بنائیں  گے جس میں  مسلمان نماز پڑھیں  اور ان کے قرب سے برکت حاصل کریں ۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳ / ۲۰۶، مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۶۴۶، ملتقطاً)

بزرگوں  کے مزارات کے قریب مسجدیں  بنانا جائز ہے:

             اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں  کے مزارات کے قریب مسجدیں  بنانا اہلِ ایمان کا قدیم طریقہ ہے اور قرآنِ کریم میں  اس کا ذکر فرمانا اور اس کو منع نہ کرنا اس فعل کے درست ہونے کی قوی ترین دلیل ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں  کے قرب میں  برکت حاصل ہوتی ہے اسی لئے اہلُ اللّٰہ کے مزارات پر لوگ حصولِ برکت کے لئے جایا کرتے ہیں  ۔قبروں  کی زیارت سنت اور مُوجِب ِثواب ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now