قرآن - 18:5 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

5
مَّا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٖ وَلَا لِأٓبَآئِهِمۡۚ كَبُرَتۡ كَلِمَةٗ تَخۡرُجُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡۚ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبٗا

ترجمہ: کنزالایمان - مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآىٕهِمْؕ-كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُ جُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْؕ-اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا(5) || اس بارے میں نہ وہ کچھ علم رکھتے ہیں نہ ان کے باپ دادا کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نِرا جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اس بارے میں نہ تووہ کچھ علم رکھتے ہیں اورنہ ان کے باپ دادا۔کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتا ہے۔ وہ بالکل جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔ || اس بارے میں نہ تووہ کچھ علم رکھتے ہیں اورنہ ان کے باپ دادا۔کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتا ہے۔ وہ بالکل جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 5 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآىٕهِمْ:اس بارے میں  نہ تووہ کچھ علم رکھتے ہیں  اور نہ ان کے باپ دادا۔} ارشاد فرمایا کہ ( اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا کوئی بچہ بنایا ہے) اس بارے میں  نہ تووہ کچھ علم رکھتے ہیں  اور نہ ان کے باپ دادا جن کی وہ اس عقیدے میں  پیروی کر رہے ہیں ، یعنی علم اس بات کا تقاضا ہی نہیں  کرتا کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی کوئی اولادبنائے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے بچے کا ہونا فی نَفْسِہٖ محال ہے اور انہوں  نے یہ بات ان چیزوں  میں  غور و فکر کے بغیر مَحض جہالت کی وجہ سے کہی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے لئے ہو سکتی ہیں  اور جو اللّٰہ تعالیٰ کے لئے محال ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے بچہ ہونا کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتا ہے۔ وہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی شان میں  بالکل جھوٹ کہہ رہے ہیں  اوراس بات کے سچ ہونے کا امکان تک بھی نہیں  ہے۔( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۵، ۵ / ۲۱۵-۲۱۶)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now