Transliteration: (Wa ammaa man aamana wa 'amila saalihan falahoo jazaaa'anil husnaa wa sanaqoolu lahoo min amrinaa yusraa)
{قَالَ:کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ذوالقر نین نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملنے کے بعد ان نبی عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی یا اپنے پاس موجود خاص ساتھیوں سے کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں گے، یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے ، پھر وہ قیا مت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر سہل ہوں دشوار نہ ہوں ۔( ابو سعود، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸، ۳ / ۴۰۳، مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸، ص۶۶۲، جلالین، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸، ص۲۵۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 88 تفسیر