Transliteration: ('Alaaa an nubaddila khairan minhum wa maa nahnu bi masbooqeen)
}فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ : تو
مجھے تمام مشرقوں اور تمام مغربوں کے رب کی قسم۔{ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب معاملہ یہ ہے کہ ہم نے
انہیں منی سے پیدا کر دیا تومجھے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی تمام
جگہوں کے مالک رب کی قسم! بیشک ہم اس بات پر ضرور قادر ہیں کہ
انہیں ان کے جرموں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور ان
کی بجائے وہ لوگ پیدا کردیں جو ان جیسے نہ ہوں بلکہ وہ ہمارے اطاعت
گزار اور فرمانبردار ہوں اور ہم انہیں ہلاک کرنے اور دوسرے
لوگ پیدا کرنے سے عاجز نہیں لیکن ہماری انتہا کو پہنچی ہوئی حکمت اور
مَشِیَّت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی سزا کو مُؤخَّر کیا جائے۔( ابو سعود،المعارج،تحت الآیۃ:۴۰-۴۱،۵ / ۷۷۰، خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ۴ / ۳۱۱، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ص۱۲۸۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المعارج آیت 41 تفسیر