Transliteration: (Laqad kafaral lazeena qaalooo innal laaha huwal maseehub nu Maryam; qul famany-yamliku minal laahi shai'an in araada ai yuhlikal Maseehab na Maryama wa ummahoo wa man fil ardi jamee'aa, wa lillaahi mulkus samaawaati wal ardi wa maa bainahumaa; yakhluqu maa Yashaaa'; wallaahu 'alaa kulli shai'in Qadeer)
{لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا: بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ نجران کے عیسائیوں نے یہ بات کہی ہے اور نصرانیوں کے فرقہ یعقوبیہ وملکانیہ کا یہی مذہب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ بتاتے ہیں کیونکہ وہ حُلُول کے قائل ہیں اور ان کا اعتقاد ِباطل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حلول کیا ہوا ہے جیسے پھول میں خوشبو اور آگ میں گرمی نے، مَعَاذَ اللہ ثُمَّ مَعَاذَاللہ ۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکمِ کفر دیا اور اس کے بعد اُن کے مذہب کا فساد بیان فرمایا۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُلُوہِیَّت کی تردید:
اس آیت میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی الوہیت کی کئی طرح تردید ہے۔
(1)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو موت آسکتی ہے، اور جسے موت آ سکتی ہے وہ خدا نہیں ہو سکتا۔
(2)… آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ماں کے شکم سے پیدا ہوئے، اور جس میں یہ صفات ہوں وہ اللہ نہیں ہو سکتا ۔
(3)… اللہ تعالیٰ تمام آسمانی اور زمینی چیزوں کا مالک ہے اور ہر چیز رب عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہے، اگرکسی میں اللہ تعالیٰ نے حلول کیا ہوتا تووہ اللہ کا بندہ نہ ہوتا حالانکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خود ا س بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔
(4)…اللہ تعالیٰ از خود خالق ہے، اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں اُلُوہیت ہوتی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی از خود خالق ہوتے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 17 تفسیر