Transliteration: (Yaa qawmid khulul Ardal Muqaddasatal latee katabal laahu lakum wa laa tartaddoo 'alaaa adbaarikum fatanqaliboo khaasireenn)
{یٰقَوْمِ: اے میری قوم!۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعد ان کو اپنے دشمنوں پر جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اے قوم! مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ۔ اِس زمین کو مقدس اِس لئے کہا گیا کہ وہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَسکَن (رہائش گاہ) تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سُکونَت سے زمینوں کو بھی شرف حاصل ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے باعثِ برکت ہوتی ہے۔ کلبی سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوہِ لبنان پر چڑھے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا گیا :دیکھئے جہاں تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نظر پہنچے وہ جگہ مقدس ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد کی میراث ہے، یہ سرزمین طُور اور اس کے گردو پیش کی تھی اور ایک قول یہ ہے کہ تمام ملک شام اس میں داخل ہے۔ (بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲۱،۲ / ۱۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 21 تفسیر