قرآن - 5:59 سورہ المائدة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

59
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ هَلۡ تَنقِمُونَ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلُ وَأَنَّ أَكۡثَرَكُمۡ فَٰسِقُونَ

Transliteration: (Qul yaaa Ahlal Kitaabi hal tanqimoona minnaaa illaaa an aamannaa billaahi wa maaa unzila ilainaa wa maa unzila min qablu wa annna aksarakum faasiqoon)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُۙ-وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ(59) || تم فرماؤ اے کتابیو تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم ہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب! تمہیں ہماری طرف سے یہی برا لگا ہے کہ ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو پہلے نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے ہیں اور بیشک تمہارے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔ || تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب! تمہیں ہماری طرف سے یہی برا لگا ہے کہ ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو پہلے نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے ہیں اور بیشک تمہارے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 59 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ:تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب!۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت فرمایا کہ آپ انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سے کس کس کو مانتے ہیں ؟ اس سوال سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ مانیں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں لیکن حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو اُس نے ہم پر نازل فرمایا اور جو حضرت ابراہیم ،حضرت اسمٰعیل ،حضرت اسحٰق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی اولاد پر نازل فرمایا اور جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیا گیا یعنی توریت و انجیل اور جواور نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا گیا سب کو مانتا ہوں۔ہم انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں فرق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں۔جب یہودیوں کو معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کو بھی مانتے ہیں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے منکر ہوگئے اور کہنے لگے جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانے ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۹،۲ / ۳۹)

            اور فرمایا گیا کہ اے کتابیو! ہم تمہارے تمام پیغمبروں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور تمہاری تمام کتابوں کو حق مانتے ہیں تو کیا تمہیں یہی برا لگ رہا ہے ۔ اس چیز کی وجہ سے تو تمہیں ہمارے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے خلاف۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now