قرآن - 5:7 سورہ المائدة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

7
وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِي وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

Transliteration: (Wazkuroo ni'matal laahi 'alaikum wa meesaaqahul lazee waasaqakum biheee iz qultum sami'naa wa ata'naa wattaqul laah; innal laaha 'aleemum bizaatis sudoor)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤۙ-اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا٘-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(7) || اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اوراپنے اوپر اللہ کا احسان اور اس کا وہ عہد یاد کرو جو اس نے تم سے لیا تھا جب تم نے کہا: ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے۔ || اوراپنے اوپر اللہ کا احسان اور اس کا وہ عہد یاد کرو جو اس نے تم سے لیا تھا جب تم نے کہا: ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 7 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ: اوراپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو۔} اس آیت میں بیعتِ عقبہ یا بیعت ِرضوان کی طرف اشارہ ہے۔(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۲۷۶)

            مجموعی طور پر آیت ِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اے صحابہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا اپنے اوپر احسان یاد کرو کہ اس نے تمہیں مسلمان بنایا اور تمہارے لئے آسان احکام بھیجے، ساری زمین کو مسجد اور پاک کرنے والا بنایا۔ نیز اس میثاق و معاہدے کو یاد کرو جو تم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت کرتے وقت بیعتِ عقبہ کی رات اور بیعتِ رضوان میں کیا۔ اس معاہدے میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا تھا کہ ہم تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ہر حکم ہرحال میں سنیں گے اور مانیں گے۔

آیت ’’وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے چندمسائل معلو م ہوئے:

(1)… انسان ہر نیکی رب عَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے کرتا ہے لہٰذااس پر فخرنہ کرے بلکہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے۔

(2) …بیعتِ عقبہ اور بیعتِ رضوان والے سارے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے اور مقبول بندے ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس بیعت کا شرف بخشا ۔اُسی بیعت کو یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت قرار دیا گیاہے۔

(3)… ان سارے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ان بیعتوں کے سارے وعدے پورے کئے اور صحابہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم وعدے کے سچے تھے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے یہاں ان کے وعدے بغیر تردید ذکر فرمائے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now