قرآن - 5:81 سورہ المائدة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

81
وَلَوۡ كَانُواْ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِيِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمۡ أَوۡلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ

Transliteration: (Wa law kaanoo yu'minoona billaahi wan nabiyyi wa maaa unzila ilaihi mattakhazoohum awliyaaa'a wa laakinna kaseeram minhum faasiqoon (End Juz 6))

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰـكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(81) || اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جو ان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے مگر ان میں تو بہتیرے فاسق ہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اگر یہ اللہ اور نبی پر اور اُس پر جو نبی کی طرف نازل کیا گیا ہے ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں بہت زیادہ فاسق ہیں ۔ || اور اگر یہ اللہ اور نبی پر اور اُس پر جو نبی کی طرف نازل کیا گیا ہے ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں بہت زیادہ فاسق ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 81 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ:اور اگر یہ اللہ اور نبی پر ایمان لاتے۔} کفار و مشرکین سے دوستی اور محبت کا رشتہ اُستُوار کرنے والے یہودی اگر اللہ  تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اس کی نازل کردہ کتاب قرآنِ پاک پر صدق و اخلاص کے ساتھ ایمان لائے ہوتے تو کسی صورت بھی ان کے ساتھ دوستی کا سلسلہ قائم نہ کرتے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان میں بہت زیادہ فاسق ہیں۔ ان آیات کے پسِ منظر پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کا اصل مقصود ریاست کی حکمرانی اور منصب کا حصول تھا اور اس کے لئے انہیں کوئی بھی طریقہ اپنانا پڑا، کسی بھی ذریعے کو اختیار کرنا پڑا وہ کر گزرے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال فی زمانہ ہم مسلمانوں میں عام ہو چکی ہے۔اپنی کرسی کوبچانے کے چکر میں کفار کے سامنے گھٹنے ٹیکتے اورایڑیاں گھسیٹتے پھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ا نہیں عقل سلیم عطا فرمائے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now