Transliteration: (Uhilla lakum saidul bahri wa ta'aamuhoo mataa'al lakum wa lissaiyaarati wa hurrima 'alaikum saidul barri maa dumtum hurumaa; wattaqul laahal lazeee ilaihi tuhsharoon)
{ اُحِلَّ لَكُمْ:تمہارے لئے حلال کردیا گیا۔} اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ محرم کے لئے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام ۔ دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریامیں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو۔( بحر الرائق، کتاب الحج، فصل ان قتل محرم صیداً۔۔۔ الخ، ۳ / ۴۷)
یاد رہے کہ دو شکار حرام ہیں : محرم کاکیا ہوا اور حرم کا۔ حرم شریف میں رہنے والے شکارکئے جانے والے جانور کو نہ وہ آدمی شکار کر سکتا ہے جو حالتِ احرام میں ہو اور نہ بغیر احرام والا، وہ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہیں۔ یہاں احرام کے شکار کی حرمت کا ذکر ہے جو احرام ختم ہونے پر ختم ہو جاتی ہے مگر حرم کا شکار ہمیشہ ہر شخص کے لئے حرام ہے خواہ وہ شخص احرام میں ہو یا احرام سے فارغ بلکہ حرم کے شکار کو اس کی جگہ سے اٹھانا بھی منع ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 96 تفسیر