قرآن - 23:75 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

75
۞وَلَوۡ رَحِمۡنَٰهُمۡ وَكَشَفۡنَا مَا بِهِم مِّن ضُرّٖ لَّلَجُّواْ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ

Transliteration: (Wa law rahimnaahum wa kashafnaa maa bihim min durril lalajjoo fee tughyaanihim ya'mahoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(75) || اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو مصیبت ان پر پڑی ہے ٹال دیں تو ضرور بھٹ پنا کریں گے اپنی سرکشی میں بہکتے ہوئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اگر ہم ان پر رحم فرماتے اور جو مصیبت ان پر پڑی تھی وہ ٹال دیتے تو یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے ضرور ڈھیٹ پن کرتے۔ || اور اگر ہم ان پر رحم فرماتے اور جو مصیبت ان پر پڑی تھی وہ ٹال دیتے تو یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے ضرور ڈھیٹ پن کرتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 75 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ: اور اگر ہم ان پر رحم فرماتے۔} شانِ نزول: جب قریش سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا سے سات برس کے قحط میں  مبتلا ہوئے اور ان کی حالت بہت اَبتر ہوگئی تو ابوسفیان اُن کی طرف سے نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور عرض کی : کیا آپ اپنے خیال میں سب جہانوں  کے لئے رحمت بنا کر نہیں  بھیجے گئے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا بے شک۔ ابوسفیان نے کہا: قریش اپنے خلاف آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا سے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں  کہ قحط کی مصیبت میں  مبتلا ہوئے، فاقوں  سے تنگآگئے، لوگ بھوک کی بے تابی سے ہڈیاں  چبا گئے اور مردار تک کھا گئے۔ میں  آپ کو  اللہ کی قسم دیتا ہوں  اور قرابت کی، آپ  اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم سے اس قحط کو دور فرمادے۔ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا کی اور انہوں  نے اس بلا سے رہائی پائی اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۵، ۳ / ۳۲۹، ملخصاً)

            اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان پر رحم فرمائیں  اور سات سالہ قحط سالی کی جو مصیبت ان اہلِ مکہ پر پڑی ہے وہ ٹال بھی دیں  توپھر وہ اپنے کفر و عناد اور سرکشی کی طرف لوٹ جائیں  گے اور ان کی یہ خوشامد و چاپلوسی جاتی رہے گی اور رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مومنین کی عداوت اور تکبر جواُن کا پہلا طریقہ تھا، یہ وہی اختیار کریں  گے۔( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۵، ۴ / ۶۰، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now