قرآن - 83:14 سورہ المطففین ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

14
كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ

Transliteration: (Kallaa bal raana 'alaa quloobihim maa kaanoo yaksiboon)

ترجمہ: کنزالایمان - كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(14) || کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔ ترجمہ: کنزالعرفان (ایسا) ہرگز نہیں (ہے) بلکہ ان کے کمائے ہوئے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے۔ || (ایسا) ہرگز نہیں (ہے) بلکہ ان کے کمائے ہوئے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المطففین آیت 14 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{كَلَّا: ہرگز نہیں ۔} یعنی اس سرکش اور گناہگار کا یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن توسابقہ لوگوں  کے قصوں  ،کہانیوں کی بات ہے یعنی اس طرح کی باتیں  کرکے اس کا اثر اپنے اوپر نہیں  ہونے دیتے تو اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر و شرک جیسے برے اعمال کی شامت سے ان کے دل زنگ آلود اور سیاہ ہو گئے ہیں  اسی وجہ سے وہ حق کو پہچان نہیں  سکتے۔( روح البیان، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰ / ۳۶۷۔)

 گناہ دل کو میلا کردیتے ہیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ گناہ دل کو میلا کرتے ہیں  اور گناہوں  کی زیادتی دل کے زنگ کا باعث ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں  ایک سیاہ نقطہ پیدا ہوتا ہے، جب اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور توبہ واِستغفار کرلیتا ہے تو اس کادل صاف ہوجاتا ہے اور اگر پھر گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا ہے یہاں  تک کہ پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور یہی رَان  یعنی وہ زنگ ہے جس کا اس آیت میں  ذکر ہوا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ویل للمطفّفین، ۵ / ۲۲۰، الحدیث: ۳۳۴۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now