قرآن - 73:18 سورہ المزمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

18
ٱلسَّمَآءُ مُنفَطِرُۢ بِهِۦۚ كَانَ وَعۡدُهُۥ مَفۡعُولًا

ترجمہ: کنزالایمان - فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاﰳ(17)السَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖؕ-كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا(18)اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا(19) || پھر کیسے بچو گے اگر کفر کرو اس دن سے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا۔ آسمان اس کے صدمہ سے پھٹ جائے گااللہ کا وعدہ ہوکر رہنا۔ بے شک یہ نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر اگر تم کفر کروتو اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا۔ آسمان اس کی وجہ سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہناہے۔ بیشک یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے۔ || پھر اگر تم کفر کروتو اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا۔ آسمان اس کی وجہ سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہناہے۔ بیشک یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المزمل آیت 18 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا: پھر اگر تم کفر کروتو اس دن کیسے بچو گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  کفارِ مکہ کو آخرت کے ہَولناک عذاب سے ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے کفر پر قائم رہنے کے باوجود تم سے فرعون کی طرح دنیا میں  ہی مُؤاخذہ نہ ہو ا تو تم قیامت کے اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو انتہائی ہَولناک ہوگا اور وہ اپنی شدت اور دہشت سے بچوں  کو بوڑھا کردے گا اورآسمان اپنی عظمت و قوت کے باوجود اس دن کی شدت کی وجہ سے پھٹ جائے گا،یاد رکھو! اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت قائم ہونے کا جو وعدہ دیا ہے وہ ہوکر رہنا ہے۔( روح البیان،المزمل،تحت الآیۃ:۱۷-۱۸،۱۰ / ۲۱۶، جلالین،المزمل،تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ص۴۷۸-۴۷۹، ملتقطاً)

{اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ: بیشک یہ نصیحت ہے۔} یعنی بیشک دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والی یہ آیات مخلوق کے لئے نصیحت ہیں ، تواب جو چاہے ایمان اور طاعت اختیار کرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف راستہ اختیار کرے۔( جلالین، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۷۹)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now