قرآن - 54:37 سورہ القمر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

37
وَلَقَدۡ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيۡفِهِۦ فَطَمَسۡنَآ أَعۡيُنَهُمۡ فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ

Transliteration: (Wa laqad raawadoohu 'andaifeehee fatamasnaaa a'yunahum fazooqoo 'azaabee wa nuzur)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ(36)وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(37) || اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا۔ انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں میٹ دیں فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرامین میں شک کیا۔ انہوں نے اسے اس کے مہمانوں کے متعلق پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا (اورفرمایا)میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرامین کا مزہ چکھو۔ || اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرامین میں شک کیا۔ انہوں نے اسے اس کے مہمانوں کے متعلق پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا (اورفرمایا)میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرامین کا مزہ چکھو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القمر آیت 37 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا: اور بیشک اس نے انہیں  ہماری گرفت سے ڈرایا۔}   یعنی حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  ہماری گرفت اورہمارے عذاب سے ڈرایا تو انہوں  نے ڈر کے فرمانوں  میں  شک کیااور ان کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں  جھٹلانے لگے۔( خازن، القمر، تحت الآیۃ: ۳۶، ۴ / ۲۰۵)

{ وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ: انہوں  نے اسے اس کے مہمانوں  کے متعلق پھسلانا چاہا ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم نے انہیں  ان کے معزز مہمانوں  کے متعلق پھسلانا چاہا اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے مہمانوں  کے درمیان د خل اندازی نہ کریں  اور انہیں  ہمارے حوالے کردیں ۔ حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم نے یہ بات فاسد نیت اور خبیث ارادے سے کہی تھی۔حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمان فرشتے تھے، انہوں نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ اُنہیں  چھوڑ دیجئے اورگھر میں  آنے دیجئے ۔ جیسے ہی وہ گھر میں  آئے تو حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام  نے ایک دستک دی تو ہم نے ان کی آنکھوں  کو مٹا دیا جس سے وہ فوراً اندھے ہوگئے اور ان کہ آنکھیں  ایسی ناپید ہوگئیں  کہ ان کا نشان بھی باقی نہ رہا اور چہرے سپاٹ ہوگئے ۔وہ لوگ حیرت زدہ مارے مارے پھرتے تھے اور دروازہ ان کے ہاتھ نہ آتا تھا، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اُنہیں  دروازے سے باہر کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں  کے ذریعے ان سے ارشاد فرمایا کہ میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں  کا مزہ چکھو جو تمہیں  حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے سنائے تھے۔(خازن، القمر،تحت الآیۃ:۳۷، ۴ / ۲۰۵، مدارک، القمر، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۱۱۸۹، جلالین، القمر، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۴۴۲، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now