قرآن - 28:47 سورہ القصص ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

47
وَلَوۡلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَيَقُولُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

Transliteration: (Wa law laaa an tuseebahum museebatum bimaa qaddamat aideehim fa yaqooloo Rabbanaa law laaa arsalta ilainaa Rasoolan fanattabi'a Aayaatika wa nakoona minal mu'mineen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(47) || اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں کوئی مصیبت اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو کہتے اے ہمارے رب تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگوں کو ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے (جب جہنم کی) مصیبت پہنچتی تووہ کہتے: اے ہمارے رب!تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔ || اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگوں کو ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے (جب جہنم کی) مصیبت پہنچتی تووہ کہتے: اے ہمارے رب!تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 47 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَوْ لَا: اور اگر یہ بات نہ ہوتی۔} اس آیت کامطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم کی طرف رسول بھیجنے سے پہلے ہی ان کے کفر اور گناہوں  کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سختی آجاتی یا ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا تو وہ لوگ یہ عذر پیش کر سکتے تھے کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہم پر سختی اور عذاب نازل کرنے سے پہلے تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہیں  بھیجا تاکہ ہم تیری دلیلوں  کو مانتے اور اپنے رسول پر جو کتاب تو نازل فرماتا ا س کی آیتوں  کی پیروی کرتے، صرف تیرے ہی معبود ہونے پر ایمان لاتے اور تیرے رسول کی اَحکامات اور ممنوعات میں  تصدیق اورا طاعت کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں  کیا بلکہ اس نے عذاب نازل کرنے سے پہلے لوگوں  کی طرف اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی تبلیغ اور کوششوں  کے بعد جب اپنے کفر اور گناہوں  پر قائم رہنے والوں  کو ان کے اعمال کی سزا ملے تو وہ مذکورہ بالا عذر پیش نہ کر سکیں ۔

            اس کے ہم معنی وہ آیتِ مبارکہ ہے جس میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’ وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى‘‘(طہ:۱۳۴)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے  ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں  کی پیروی کرتے؟

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now